ابنا: شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے کوفی عنان کل رات تہران پہنچے جہاں انھوں نے آج ایران کے وزير خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کی ، شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے کوفی عنان نے شام کے بحران کے حل میں ایران کے نقش کو اہم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ شام کا معاملہ پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے اور ہتھیار اٹھانے سے شام کا معاملہ حل نہیں ہوگا ہتھیار صرف شامی حکومت کے پاس ہونے چاہییں ۔
سعودی عرب اور قطر کی جانب سے دہشت گردوں کو مسلح کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کوفی عنان نے کہا کہ اقوام متحدہ نے شدت پسند کارروائیوں کو روکنے کے لئےبہت تلاش و کوشش کی ہے اور دہشت گردوں اور باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی سے شام کا معاملہ حل نہیں ہوگا
شام کے معاملے کو مذاکرات کے ذریعہ ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ ہتھیار صرف شامی حکومت کے پاس ہی ہونے چاہییں شدت پسندوں کو شام میں مسلح کارروائیاں روک دینی چاہییں اور مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے کوفی عنان نے کہا کہ شامی حکومت کے مخالفین کو چاہیے کہ وہ مسلح کارروائیاں روک دیں کیونکہ ان کی مسلح کارروائیوں کے جواب میں شامی حکومت کو بھی اقدام کرنا پڑتا ہے کوفی عنان نے کہا کہ شام کے معاملے کو حل کرنے میں ایران اہم نقش ایفا کرسکتا ہے کوفی عنان نے شام کے صدر بشار اسد سے بھی مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قراردیا ہے۔
.......
/169